MOJ E SUKHAN

پھر مری راہ میں کھڑی ہوگی

غزل

پھر مری راہ میں کھڑی ہوگی
وہی اک شے جو اجنبی ہوگی

شور سا ہے لہو کے دریا میں
کس کی آواز آ رہی ہوگی

پھر مری روح میرے گھر کا پتہ
میرے سائے سے پوچھتی ہوگی

کچھ نہیں میری زرد آنکھوں میں
ڈوبتے دن کی روشنی ہوگی

رات بھر دل سے بس یہی باتیں
دن کو پھر درد میں کمی ہوگی

بس یہی ایک بوند آنسو کی
میرے حصے کی رہ گئی ہوگی

پھر مرے انتظار میں مری نیند
میرے بستر پہ جاگتی ہوگی

جانے کیوں اک خیال سا آیا
میں نہ ہوں گا تو کیا کمی ہوگی

خلیل الرحمٰن اعظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم