MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سفر کی دھوپ میں چہرے سنہرے کر لیے ہم نے

غزل

سفر کی دھوپ میں چہرے سنہرے کر لیے ہم نے
وہ اندیشے تھے رنگ آنکھوں کے گہرے کر لیے ہم نے

خدا کی طرح شاید قید ہیں اپنی صداقت میں
اب اپنے گرد افسانوں کے پہرے کر لیے ہم نے

زمانہ پیچ اندر پیچ تھا ہم لوگ وحشی تھے
خیال آزار تھے لہجے اکہرے کر لیے ہم نے

مگر ان سیپیوں میں پانیوں کا شور کیسا تھا
سمندر سنتے سنتے کان بہرے کر لیے ہم نے

وہی جینے کی آزادی وہی مرنے کی جلدی ہے
دوالی دیکھ لی ہم نے دسہرے کر لیے ہم نے

ساقی فاروقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم