MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خزاں نے ستایا نہ خاروں نے لوٹا

غزل

خزاں نے ستایا نہ خاروں نے لوٹا
گلوں نے دئے دکھ بہاروں نے لوٹا

فلاحی ریاست کا نقشہ دکھا کر
غریبوں کو سرمایہ کاروں نے لوٹا

جو اسلام کے نام پر چل رہے تھے
مزا ان سیاسی اداروں نے لوٹا

کڑے وقت پر کام آنا تھا جن کو
وطن کو انہیں جاں نثاروں نے لوٹا

تجھے قاضئ شہر کیسے بتاؤں
مرا گھر مرے پہرہ داروں نے لوٹا

بظاہر تھے رہبر پس پردہ رہزن
قیادت کو امید واروں نے لوٹا

جو امداد طوفاں کے ماروں کو آئی
اسے خوب تقسیم کاروں نے لوٹا

کبھی سوچتی ہوں کہ قومی خزانہ
وضاحت طلب گوشواروں نے لوٹا

حقیقت تو یہ ہے کہ میرے وطن کو
وطن دوست تخریب کاروں نے لوٹا

تلاطم میں پہلے ہی جو لٹ چکے تھے
اے رومیؔ انہیں پھر کناروں نے لوٹا

رومانہ رومی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم