MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بہتی ہوئی آنکھوں کی روانی میں مرے ہیں

غزل

بہتی ہوئی آنکھوں کی روانی میں مرے ہیں
کچھ خواب مرے عین جوانی میں مرے ہیں

روتا ہوں میں ان لفظوں کی قبروں پے کئی بار
جو لفظ مری شعلہ بیانی میں مرے ہیں

کچھ تجھ سے یہ دوری بھی مجھے مار گئی ہے
کچھ جذبے مرے نقل مکانی میں مرے ہیں

قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو
ہم لوگ محبت کی کہانی میں مرے ہیں

اس عشق نے آخر ہمیں برباد کیا ہے
ہم لوگ اسی کھولتے پانی میں مرے ہیں

کچھ حد سے زیادہ تھا ہمیں شوق محبت
اور ہم ہی محبت کی گرانی میں مرے ہیں

اعجاز توکل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم