MOJ E SUKHAN

اس قدر غور سے نہ سن فعلن

غزل

اس قدر غور سے نہ سن فعلن
بحر ٹوٹی ہوئی ہے چن فعلن

گر عروضی زبان سیکھنی ہے
پھر تو کہنا پڑے گا کن فعلن

ہم نے اس کو کیا ہے استعمال
کیوں نہ گائے ہمارے گن فعلن

لفظ ہوتا ہے ہر غزل کی آنکھ
خواب کے ساتھ اس میں بن فعلن

زندگی ایسی بحر ہے جیسے
فاعلاتن مفاعلن فعلن

ہے اگر شاعری کوئی نغمہ
دوستو پھر ہے اس کی دھن فعلن

پی غزل کی شراب دونوں نے
ہے مرے ساتھ ساتھ ٹن فعلن

اعجاز توکل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم