MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اتنے دن کے بعد تو آیا ہے آج

غزل

اتنے دن کے بعد تو آیا ہے آج
سوچتا ہوں کس طرح تجھ سے ملوں

میرے اندر جاگ اٹھی اک چاندنی
میں زمیں سے آسماں تک انگ ہوں

اور اجلا ہو گیا قربت کا چاند
اور گہرا ہو گیا تیرا فسوں

اے سراپا رنگ نکہت تو بتا
کس دھنک سے تیرا پیراہن بنوں

سارے گل بوٹے تر و تازہ ہوئے
دور تک پہنچی ہے میری موج خوں

کر رہے ہیں لمحے لمحے کا حساب
مل کے پھر بیٹھے ہیں یاران جنوں

دشت غم کی دھوپ میں مجھ پر کھلا
میں خود اپنا سایہء دیوار ہوں

ناز کر خود پر کہ تو ہے بے شمار
قدر کر میری کہ میں بس ایک ہوں

اطہر نفیس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم