MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نہ شام ہے نہ سویرا عجب دیار میں ہوں

غزل

نہ شام ہے نہ سویرا عجب دیار میں ہوں
میں ایک عرصہء بے رنگ کے حصار میں ہوں

سپاہ غیر نے کب مجھ کو زخم زخم کیا
میں آپ اپنی ہی سانسوں کے کار زار میں ہوں

کشاں کشاں جسے لے جائیں گے سر مقتل
مجھے خبر ہے کہ میں بھی اسی قطار میں ہوں

شرف ملا ہے کہاں تیری ہمرہی کا مجھے
تو شہسوار ہے اور میں تیرے غبار میں ہوں

اتا پتا کسی خوشبو سے پوچھ لو میرا
یہیں کہیں کسی منظر کسی بہار میں ہوں

میں خشک پیڑ نہیں ہوں کہ ٹوٹ کر گر جاؤں
نمو پزیر ہوں اور سرو شاخسار میں ہوں

نہ جانے کون سے موسم میں پھول مہکیں گے
نہ جانے کب سے تری چشم انتظار میں ہوں

ہوا ہوں قریۂ جاں میں کچھ اس طرح پامال
کہ سر بلند ترے شہر زر نگار میں ہوں

اطہر نفیس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم