MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہر گھر کے آس پاس سمندر لگا مجھے

غزل

ہر گھر کے آس پاس سمندر لگا مجھے
کتنا مہیب شہر کا منظر لگا مجھے

خلقت بہت تھی پھر بھی کوئی بولتا نہ تھا
سنسان راستوں سے بہت ڈر لگا مجھے

قاتل کا ہاتھ آج خدا کے ہے رو بہ رو
دست دعا بھی خون کا ساغر لگا مجھے

یوں ریزہ ریزہ ہوں کہ کوئی بھی ہوا نہ تھا
یوں تو تری نگاہ کا کنکر لگا مجھے

بیٹھے بٹھائے کوچۂ قاتل میں لے گیا
معصوم دل بھی کتنا ستم گر لگا مجھے

کس کس نے چٹکیوں میں اڑایا ہے میرا دل
چاہے تو تو بھی آخری ٹھوکر لگا مجھے

گلچیں پلٹ کے سب ترے کوچے سے آئے ہیں
پھولوں کے راستے میں ترا گھر لگا مجھے

وہ جاگتا رہا تو قیامت بپا رہی
وہ سو گیا تو اور بھی کافر لگا مجھے

دیکھا جب آنکھ بھر کے اسے ڈوبتا گیا
عالم تمام عالم دیگر لگا مجھے

اس کی خموشیوں میں نہاں کتنا شور تھا
مجھ سے سوا وہ درد کا خوگر لگا مجھے

جس آئنے میں بھی ترا پیکر سما گیا
اس آئنے میں اپنا ہی جوہر لگا مجھے

یا میرے دل سے حسرت پرواز چھین لے
یا میرے پاس آ کے نئے پر لگا مجھے

ساحل پہ جو کھڑا تھا تماشا بنا ہوا
وہ گہرے پانیوں کا شناور لگا مجھے

سوچا تو چور چور تھے شیشے کے گھر تمام
دیکھا تو ہاتھ ہاتھ میں پتھر لگا مجھے

آنکھوں سے گرد جھاڑ کے دیکھا تو دوستو
کوتاہ قد بھی اپنے برابر لگا مجھے

تاریکیوں میں نور کا ہالا بھی تھا کہیں
دشت خیال اپنا مقدر لگا مجھے

چھیڑی کچھ اس طرح سے جمیلؔ اس نے یہ غزل
ہر ایک شعر قند مکرر لگا مجھے

جمیل ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم