MOJ E SUKHAN

سائے کی خاموشی سارا شگفتہ

سائے کی خاموشی
سارا شگفتہ

سائے کی خاموشی صرف زمین سہتی ہے

کھوکھلا پیڑ نہیں یا کھوکھلی ہنسی نہیں
اور پھر انجان اپنی انجانی ہنسی میں ہنسا

قہقہے کا پتھر سنگریزوں میں تقسیم ہو گیا
سائے کی خاموشی

اور پھول نہیں سہتے
تم

سمندر کو لہروں میں ترتیب مت دو
کہ تم خود اپنی ترتیب نہیں جانتے

تم
زمین پہ چلنا کیا جانو

کہ بت کے دل میں تمہیں دھڑکنا نہیں آتا

 

سارا شگفتہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم