MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ارادہ ہو اٹل تو معجزہ ایسا بھی ہوتا ہے

غزل

ارادہ ہو اٹل تو معجزہ ایسا بھی ہوتا ہے
دیے کو زندہ رکھتی ہے ہوا ایسا بھی ہوتا ہے

سنائی دے نہ خود اپنی صدا ایسا بھی ہوتا ہے
میاں تنہائی کا اک سانحہ ایسا بھی ہوتا ہے

چھڑے ہیں تار دل کے خانہ بربادی کے نغمے ہیں
ہمارے گھر میں صاحب رت جگا ایسا بھی ہوتا ہے

بہت حساس ہونے سے بھی شک کو راہ ملتی ہے
کہیں اچھا تو لگتا ہے برا ایسا بھی ہوتا ہے

کسی معصوم بچے کے تبسم میں اتر جاؤ
تو شاید یہ سمجھ پاؤ خدا ایسا بھی ہوتا ہے

زباں پر آ گئے چھالے مگر یہ تو کھلا ہم پر
بہت میٹھے پھلوں کا ذائقہ ایسا بھی ہوتا ہے

ظفر گورکھ پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم