MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دیکھنے والے یہ بولے چشم ہائے یار کے

غزل

دیکھنے والے یہ بولے چشم ہائے یار کے
یہ تو مستانے ہیں شاید خانۂ خمار کے

دل مرا شاید ہے شیداؤں میں تیر یار کے
زخم ہائے دل مشابہ ہیں لب سوفار کے

پار اتارا بحر نا پیدا کنار عشق سے
صدقے جاؤں کیوں نہ تیری تیغ لنگر دار کے

اٹھ سکا ہرگز کسی صورت نہ تیرا ناتواں
دب گیا جو نیچے تیرے سایۂ دیوار کے

کیا خبر اس کو کہ کب رات آئی اور کب دن گیا
روز و شب یکساں ہیں آگے چشم شب بیدار کے

جاں فزائی غم ربائی دل کشی فرحت دہی
ہیں خواص خاص یہ خاک در دل دار کے

جو دکھا دے جلوہ روئے شاہد مقصود کا
صدقے ساقی اس شراب آئینہ کردار کے

عشق میں اس بت کے رہبان و شیوخ و برہمن
ہیں یہ سب کے سب مقید رشتۂ زنار کے

بولے بہتر ہے حصول آرزو سے آرزو
واہ صدقے جائیے اس پہلوئے انکار کے

غم اٹھانا ظلم سہنا صبر کرنا یا کہ شکر
کون ہے حسن عمل لائق تری سرکار کے

کیوں نہ میں سمجھوں کہ مجھ کو مل گئی داد سخن
وہ بہت شائق ہیں اے بیدلؔ مرے اشعار کے

بیدل عظیم آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم