MOJ E SUKHAN

بیٹھے ہو سر راہ گزر کیوں نہیں جاتے

غزل

بیٹھے ہو سر راہ گزر کیوں نہیں جاتے
تم لوگ تو گھر والے ہو گھر کیوں نہیں جاتے

یہ وقت کے حاکم ہیں سنا وقت کے حاکم
یہ کہتے ہیں مر جاؤ تو مر کیوں نہیں جاتے

اس بات سے ظاہر ہے تمہیں ایک خدا ہو
ہم ورنہ کسی اور کے در کیوں نہیں جاتے

پل ہی میں گزر جاتی ہے سکھ چین کی راتیں
دکھ درد کے دن پل میں گزر کیوں نہیں جاتے

مدت سے کریدے بھی نہیں یاد کسی کی
پھر زخم مرے سینے کے بھر کیوں نہیں جاتے

اس دور میں جینا ہے تو مکار کا جینا
یہ بات حقیقت ہے تو مر کیوں نہیں جاتے

اتنے ہی اگر تنگ ہو اس شہر سے عاصیؔ
چپکے سے کسی دور نگر کیوں نہیں جاتے

پنڈت ودیا رتن عاصی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم