MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ بہاریں یہ چمن یہ آشیاں میرے لئے

غزل

یہ بہاریں یہ چمن یہ آشیاں میرے لئے
سر بہ سر ثابت ہوئے آزار جاں میرے لئے

پوچھتے کیا ہو دل بے خانماں کی دوستو
اک مصیبت ہے دل بے خانماں میرے لئے

اب طبیعت مشکلوں سے اس قدر مانوس ہے
فصل گل سے کم نہیں دور خزاں میرے لئے

چل دیا جب ناخدا طوفاں میں مجھ کو چھوڑ کر
بن گئی ساحل ہر اک موج رواں میرے لئے

کون سی ہے وہ مصیبت مجھ پہ جو ٹوٹی نہیں
رات دن گردش میں ہیں ہفت آسماں میرے لئے

لاکھ ہوں بے وصف لیکن مدتوں یاد آؤں گا
مدتوں دنیا رہے گی نوحہ خواں میرے لئے

میں نے عاصیؔ ترک کر دی زندگی یہ سوچ کر
کیوں سہے یہ ہر بلائے ناگہاں میرے لئے

پنڈت ودیا رتن عاصی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم