MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

آپ سے شکوۂ بیداد نہیں کرتے ہم

غزل

آپ سے شکوۂ بیداد نہیں کرتے ہم
ہونٹ سی لیتے ہیں فریاد نہیں کرتے ہم

مژدۂ ذوق اسیری کہ وہ فرماتے ہیں
قید غم سے تجھے آزاد نہیں کرتے ہم

مسکرا دیتے ہیں جب کوئی بلا آتی ہے
کسی صورت غم افتاد نہیں کرتے ہم

خوب پردہ ہے یہ ظاہر کا گماں ہے ان کو
خواہش حسن خداداد نہیں کرتے ہم

دل میں باقی ہے ابھی حوصلۂ صبر و قرار
حسرت تیشۂ فرہاد نہیں کرتے ہم

کیا خبر کون سی منزل پہ محبت پہنچی
اب یہ عالم ہے تجھے یاد نہیں کرتے ہم

اپنی افتاد و طبیعت ہی کچھ ایسی ہے نظیرؔ
کبھی اندیشۂ افتاد نہیں کرتے ہم

سعادت نظیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم