MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کس سے وفا کی ہے امید کون وفا شعار ہے

غزل

کس سے وفا کی ہے امید کون وفا شعار ہے
اے مرے بے قرار دل کس لیے بے قرار ہے

سن تو رہے ہیں دیر سے شور بہت بہار کا
جانے کہاں کھلے ہیں پھول جانے کہاں بہار ہے

کیوں نہ ترے خیال میں زمزمہ خواں گزر چلیں
یوں بھی ہماری راہ میں گردش روزگار ہے

رات سے ہم نہیں اداس رات اداس ہی سہی
رات تو صبح کے لیے وقفۂ انتظار ہے

اب بھی مذاق درد سے میری شبوں میں ہے گداز
میرے لبوں پہ آج بھی نغمۂ حسن یار ہے

فرید جاوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم