MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

غلام زادوں میں کوئی غلام ہے ہی نہیں

غزل

غلام زادوں میں کوئی غلام ہے ہی نہیں
ہمارے شہر میں سچ کا نظام ہے ہی نہیں

یہ لوگ جلد ہی پتھر میں ڈھلنے والے ہیں
یہاں کسی سے کوئی ہم کلام ہے ہی نہیں

میں دیکھتا ہوں انہیں اور گزرتا جاتا ہوں
تمام چہرے ہیں چہروں کے نام ہے ہی نہیں

تمہاری مرضی ہے رکھ لو ہمیں یا ٹھکرا دو
ہمارے پاس محبت کا دام ہے ہی نہیں

یہ لوگ اسے تری تصویر ہی سمجھتے ہیں
پر اس کے جیسا کوئی خوش کلام ہے ہی نہیں

وہاں پہ خوابوں کو خیرات کر کے چلتے بنو
جہاں شعور حلال و حرام ہے ہی نہیں

ذرا سی لہجے کی نرمی سے مان جائیں گے
کہ بگڑے لوگوں کا کوئی امام ہے ہی نہیں

الیاس بابر اعوان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم