غزل
صحرا سے تہی تھے رم دریا میں نہیں تھے
ہم لوگ ترے کنج فسانہ میں نہیں تھے
دل خود سے جدا ہو کے انہیں ڈھونڈ رہا تھا
وہ دن کہ جو امکان زمانہ میں نہیں تھے
اک حیرت روشن سی رہی چشم کے ہم راہ
ہم گرچہ فسوں خانۂ فردا میں نہیں تھے
جب زخم دمک اٹھا تو وہ بھی پلٹ آئے
شامل جو کبھی رسم مداوا میں نہیں تھے
تھے تجھ سے ورا نقش کسی اور کے روشن
ہم خاک بسر تیری تمنا میں نہیں تھے
خوشبو کے تسلسل کی روایت کے ہیں ہم لوگ
کب پھول سے ہم باغ زمانہ میں نہیں تھے
میں ڈوبتی سانسوں کی طرح ٹوٹ رہی تھی
تم غم کی طرح چشم تماشا میں نہیں تھے
مے رنگ نہ تھے چشم بہاراں کے بلاوے
اب کے وہ نشے شوخیٔ مینا میں نہیں تھے
ہم چاہ طلب اور تھے تم جاہ طلب اور
یوسف سے چلن عشق زلیخا میں نہیں تھے
صائمہ زیدی