MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہنستی ہوئی تنہا وہ دریچے میں کھڑی ہے

غزل

ہنستی ہوئی تنہا وہ دریچے میں کھڑی ہے
لڑکی ہے کہ ترشے ہوئے ہیروں کی لڑی ہے

سونے کا یہ انداز ہے خفگی کی علامت
چہرہ کئے دیوار کی جانب وہ پڑی ہے

کہرے میں گھری شام کی ڈولی سے اتر کر
تنہائی کی چوکھٹ پہ تری یار کھڑی ہے

دل عمر کے قانون کا قائل نہیں ورنہ
احساس اسے بھی ہے کہ وہ مجھ سے بڑی ہے

آنکھوں میں ترے غم کا ہے ہنستا ہوا موسم
دل میں تری یادوں کی ہری فصل کھڑی ہے

پابندئ اوقات ہوئی اس سے نہ ہوگی
ہر چند کہ نازک سے کلائی میں گھڑی ہے

مقتول کو کر آئے جہاں دفن قمرؔ لوگ
تلوار بھی قاتل کی وہیں پر تو گڑی ہے

قمر اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم