MOJ E SUKHAN

کوئی رشتہ نہ ہو پھر بھی رشتے بہت

غزل

کوئی رشتہ نہ ہو پھر بھی رشتے بہت
آپ اپنے نہیں آپ اپنے بہت

راز رکھتے نہ ہم اس تعلق کو گر
لوگ روتے بہت لوگ ہنستے بہت

دل کی تنہائیوں کا مداوا نہیں
گھوم کر ہم نے دیکھے ہیں میلے بہت

اس ہی بنیاد پر کیوں نہ مل جائیں ہم
آپ تنہا بہت ہم اکیلے بہت

جب تھی منزل نظر میں تو رستہ تھا ایک
گم ہوئی ہے جو منزل تو رستے بہت

خواب تعبیر کے موڑ پر کھو گئے
یوں کہ تعبیر داں پڑ کے سوئے بہت

پیڑ کو کاٹنے والے دیکھیں ذرا
پیڑ پر ہیں بنے آشیانے بہت

ڈوبنے والے شاید یہ بتلا سکیں
ڈوبنے کو سہارے کے تنکے بہت

عبداللہ جاوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم