MOJ E SUKHAN

یاد یوں ہوش گنوا بیٹھی ہے

غزل

یاد یوں ہوش گنوا بیٹھی ہے
جسم سے جان جدا بیٹھی ہے

راہ تکنا ہے عبث سو جاؤ
دھوپ دیوار پہ آ بیٹھی ہے

آشیانے کا خدا ہی حافظ
گھات میں تیز ہوا بیٹھی ہے

دست گلچیں سے مروت کیسی
شاخ پھولوں کو گنوا بیٹھی ہے

کیسے آئے کسی گلشن میں بہار
دشت میں آبلہ پا بیٹھی ہے

شہر آسیب زدہ لگتا ہے
کوچے کوچے میں بلا بیٹھی ہے

چار کمروں کے مکاں میں اپنے
اک پچھل پائی بھی آ بیٹھی ہے

شاعری پیٹ کی خاطر جاویدؔ
بیچ بازار کے آ بیٹھی ہے

عبد اللہ جاوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم