MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

آؤ اک  جشن  عام  ہو  جائے

Aao Ik jashn aam Ho jayee

غزل

آؤ اک  جشن  عام  ہو  جائے
خاص  کچھ اہتمام  ہوجا ئے

شب  گزاری کی فکر لازم  ہے
‘اس سے پہلےکہ شام ہوجائے،

ہےسردست صرف یہ ہی طلب
ساقیا !  ایک  جام  ہوجائے

غالبا”اٹھ کےہم نشینوں کے
درمیاں  سے مقام  ہو جائے

ختم ہو روز روز کی تکرار
آج  حجت  تمام   ہوجا  ئے

گرد ہےاس کے مجمع حساد
جب کوئ نیک نام  ہو جائے

دبدبہ ڈ ھونڈتے ہو پہلا سا
تا کہ کوئی  غلام   ہوجائے

بےگھروں کےرضیہ رہنےکو
جلد کچھ  انتظام  ہوجائے  

رضیہ کاظمی

Razia Kazmi

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم