Aao Ik jashn aam Ho jayee
غزل
آؤ اک جشن عام ہو جائے
خاص کچھ اہتمام ہوجا ئے
شب گزاری کی فکر لازم ہے
‘اس سے پہلےکہ شام ہوجائے،
ہےسردست صرف یہ ہی طلب
ساقیا ! ایک جام ہوجائے
غالبا”اٹھ کےہم نشینوں کے
درمیاں سے مقام ہو جائے
ختم ہو روز روز کی تکرار
آج حجت تمام ہوجا ئے
گرد ہےاس کے مجمع حساد
جب کوئ نیک نام ہو جائے
دبدبہ ڈ ھونڈتے ہو پہلا سا
تا کہ کوئی غلام ہوجائے
بےگھروں کےرضیہ رہنےکو
جلد کچھ انتظام ہوجائے
رضیہ کاظمی
Razia Kazmi