MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نومبر کے پہلے ہفتے پر ایک نظم   

نومبر کے پہلے ہفتے پر ایک نظم

خنک ہوا کا برہنہ ہاتھوں سے زرد ماتھے سے

پہلا پہلا مکالمہ ہے
ابھی یہ دن رات سرد مہری کے اتنے خوگر نہیں ہوئے ہیں

تو پھر یہ بے وزن صبح کیوں بوجھ بن رہی ہے
سواد آغاز‌‌ خشک سالی میں کیوں ورق بھیگنے لگا ہے

دھواں دھواں شام کے الاؤ میں کوئی جنگل جلے
کہ روٹھی ہوئی تمنا

خزاں کا پانی کوئی اشارہ نہیں سمجھتا
یہ نہر اب تک پرانے پہرے میں چل رہی ہے

عجیب تاثیر آخر شب کے آسماں کی
ہوا چلے یا زمین گھومے

فصیل کہرے کی کوئی سورج نہیں گراتا
زمین سے ملبہ گئے دنوں کا کوئی ستارہ نہیں اٹھاتا

طویل راتیں کہ مختصر دن
کثیر وعدے قلیل عمریں

عبث حساب و شمار اس کا جو گوشت اس سال ناخنوں سے جدا ہوا ہے
سکڑتے لمحے کی ایک سرحد سے تا بہ حد‌ دگر وہی کار ستر پوشی

وہ موئے تن ہو کہ تار پنبہ کہ بال و پر عکس آئینہ کے
ہر ایک کترن پہ زردیاں بانٹنے درختوں کے فیصلے ہیں

اداس پتا
خزاں کا پانی نئے معانی نہیں سمجھتا

سو نہر اب تک پرانے پہرے میں چل رہی ہے

اختر حسین جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم