MOJ E SUKHAN

کبھی روزنوں سے پکارنا کبھی در کے چاک سے دیکھنا

غزل

کبھی روزنوں سے پکارنا کبھی در کے چاک سے دیکھنا
سر بزم اس کا کبھی مجھے بڑے انہماک سے دیکھنا

اگر اس کے حسن و جمال کا چھڑے تذکرہ کبھی بزم میں
تو پھر اس کے رخ پہ حجاب کے کئی رنگ پاک سے دیکھنا

یہ مرا اصول غلط سہی مری زندگی کی اساس ہے
کہ جسے بھی دیکھنا دوستو نظر تپاک سے دیکھنا

مری طرح لوٹ کے آئے جب ہے یہی نصیب بہار بھی
گل و برگ فرش پہ منتشر تو شجر ہلاک سے دیکھنا

کبھی حسن پیکر زیست پر جو نظر پڑے زہے تجزیہ
تو پھر آئنوں میں کچھ عکس بھی بڑے شرمناک سے دیکھنا

ہے دعا کہ قوت صبر طاقت ضبط جزو حیات ہو
یہاں واقعات قدم قدم ہیں جو خوفناک سے دیکھنا

گل نم سے پیکر زیست میں ہمیں منتقل جو کیا گیا
تو سبھی مناظر زندگی ہیں نگاہ خاک سے دیکھنا

یعقوب تصور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم