MOJ E SUKHAN

مری طرح کا کوئی شخص مر گیا مجھ میں

غزل

مری طرح کا کوئی شخص مر گیا مجھ میں
ترے وجود کا احساس بھر گیا مجھ میں

عجیب گرد رہ شوق جم گئی لب پر
عجیب ذوق سفر سا ٹھہر گیا مجھ میں

کسی پرند کی چیخوں نے سنگ باری کی
سکوت شام کا شیشہ بکھر گیا مجھ میں

ہوائے درد چلی دل کی کھڑکیاں کھٹکیں
مکین گوشۂ امید ڈر گیا مجھ میں

ہر ایک سمت تری یاد کا دھندلکا ہے
ترے خیال کا سورج اتر گیا مجھ میں

تلاش صوت و صدا میں کدھر گیا میں عرشؔ
وہ نغمہ ساز خموشی کدھر گیا مجھ میں

آکاش عرش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم