MOJ E SUKHAN

جس جگہ بھی ملا گھنا سایا

غزل

جس جگہ بھی ملا گھنا سایا
ہم نے کچھ دیر کو سکوں پایا

ہم نوید سحر میں غلطاں تھے
ظلمت شب نے آ کے چونکایا

ہم مقدر ہیں دھوپ کا یارو
ہم پہ ہنستا ہے کس لیے سایا

ہو چلے تھے دیار غیر کے ہم
تیری یادوں نے دام پھیلایا

ہم گھنی چھاؤں سے نکل بھاگے
جب بھی سورج عروج پر آیا

وشو ناتھ درد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم