MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس درجہ مطمئن ہیں تری دوستی سے ہم

غزل

اس درجہ مطمئن ہیں تری دوستی سے ہم
مانگے اگر تو جان بھی دیں گے خوشی سے ہم

کہہ ڈالیے جو آپ کے دل میں ہے بے دھڑک
کرتے نہیں ہیں بات کسی کی کسی سے ہم

ہے ان کی بات اور ہے ان کا حساب اور
ویسے تو پیار کرتے ہیں ہر آدمی سے ہم

یا رب ابھی بھی ہے تری رحمت پہ اعتبار
بے شک ہیں بے حساب خفا زندگی سے ہم

اچھی لگیں سبھی کو ہماری نصیحتیں
کہتے ہیں تلخ بات بھی اس سادگی سے ہم

ہوگی تو جیت اس کی بہر حال عشق میں
کتنا کریں مقابلہ مردانگی سے ہم

رہتا نہیں مزاج ہمیشہ تو ایک سا
کب تک سہیں گے جور ترے خامشی سے ہم

پروازؔ زندگی میں جو ہونا تھا ہو چکا
کیوں جاتے جاتے توبہ کریں مے کشی سے ہم

درشن دیال پرواز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم