MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہر سانس کو مہکائیے اب دیر نہ کیجے

غزل

ہر سانس کو مہکائیے اب دیر نہ کیجے
اک پھول سا کھل جائیے اب دیر نہ کیجے

اک جام محبت سے مسرت سے بھرا جام
چھلکائیے چھلکائیے اب دیر نہ کیجے

سچ کہتا ہوں اک عمر سے پیاسی ہے یہ محفل
پیمانہ بکف آئیے اب دیر نہ کیجے

ساون کی گھٹا بن کے سلگتی ہوئی رت میں
دنیا پہ برس جائیے اب دیر نہ کیجے

زنجیر میں جکڑے ہوئے دیوانوں کو اپنے
سولی سے اتروائیے اب دیر نہ کیجے

سناٹا ہر اک روح کو اب ڈسنے لگا ہے
اک گیت کوئی گائیے اب دیر نہ کیجے

اس عہد شرر بار پہ پھر امن کی شبنم
برسائیے برسائیے اب دیر نہ کیجے

تلواروں نے چمکایا ہے مقتل کی زمیں کو
تلواروں کو دفنائیے اب دیر نہ کیجے

اک اور حسیں خواب کہ مٹ جائے شب غم
دوراںؔ کو بھی دکھلائیے اب دیر نہ کیجے

اویس احمد دوراں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم