MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مرے نارسا تصور نے سراغ پا لیا ہے

غزل

مرے نارسا تصور نے سراغ پا لیا ہے
میں پتا لگا چکا ہوں تو کہاں کہاں چھپا ہے

مجھے کون سربلندی کی طرف بلا رہا ہے
مرا نرگسی تخیل تو شکست کھا چکا ہے

تجھے قاتلوں کے نرغے سے چھڑائے گا نہ کوئی
یہ ہے مقتل اے مسافر تو کسے پکارتا ہے

سر شام جو غریبوں کے دیے بجھا رہی ہیں
انہیں سازشوں کا مرکز یہ تری محل سرا ہے

کوئی موسمی پرندوں سے کہے ادھر نہ آئیں
ابھی میرے گلستاں کی بڑی مضمحل فضا ہے

سن اے میری پیاری دنیا مری بے قرار دنیا
ترا درد مند شاعر ترے گیت گا رہا ہے

وہ بہ زعم خود گلستاں کا ہے سربراہ دوراںؔ
جو وہ چاہے سو کرے گا اسے کون روکتا ہے

اویس احمد دوراں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم