MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

لوگ ہنسنے کے لیے روتے ہیں اکثر دہر میں

غزل

لوگ ہنسنے کے لیے روتے ہیں اکثر دہر میں
تلخیاں خود ہی ملا لیتے ہیں میٹھے زہر میں

پیار کے چشموں کا پانی جب سے کھارا ہو گیا
ساری دنیا گھر گئی ہے نفرتوں کے قہر میں

وقت کہتا ہے ابھرتے ڈوبتے چہروں کو دیکھ
آج تو رونق بڑی ہے حادثوں کی نہر میں

جانے یہ حدت چمن کو راس آئے یا نہیں
آگ جیسی کیفیت ہے خوشبوؤں کی لہر میں

ہم نے پلکوں پر سجا رکھے ہیں اشکوں کے چراغ
ایک میلہ سا لگا ہے روشنی کے شہر میں

چند آوازیں تعاقب میں ہیں افضلؔ آج بھی
قربتوں کا شہد ہے تنہائیوں کے زہر میں

افضل منہاس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم