MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کرب کے شہر سے نکلے تو یہ منظر دیکھا

غزل

کرب کے شہر سے نکلے تو یہ منظر دیکھا
ہم کو لوگوں نے بلایا ہمیں چھو کر دیکھا

وہ جو برسات میں بھیگا تو نگاہیں اٹھیں
یوں لگا ہے کوئی ترشا ہوا پتھر دیکھا

کوئی سایہ بھی نہ سہمے ہوئے گھر سے نکلا
ہم نے ٹوٹی ہوئی دہلیز کو اکثر دیکھا

سوچ کا پیڑ جواں ہو کے بنا ایسا رفیق
ذہن کے قد نے اسے اپنے برابر دیکھا

جب بھی چاہا ہے کہ ملبوس وفا کو چھو لیں
مثل خوشبو کوئی اڑتا ہوا پیکر دیکھا

رقص کرتے ہوئے لمحوں کی زباں گنگ ہوئی
اپنے سینے میں جو اترا ہوا خنجر دیکھا

زندگی اتنی پریشاں ہے یہ سوچا بھی نہ تھا
اس کے اطراف میں شعلوں کا سمندر دیکھا

رات بھر خوف سے چٹخے تھے سحر کی خاطر
صبحدم خود کو بکھرتے ہوئے در پر دیکھا

وہ جو اڑتی ہے سدا دست وفا میں افضلؔ
اسی مٹی میں نہاں درد کا گوہر دیکھا

افضل منہاس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم