MOJ E SUKHAN

تمام رات مسلسل ایاغ چلتا رہا

غزل

تمام رات مسلسل ایاغ چلتا رہا
درون قلب مسلسل چراغ جلتا رہا

عجب کہانیاں بنتی ہیں نصف راتوں میں
شباب نو سے مسلسل شرار ابلتا رہا

مٹاتی تیرگیٔ شب کیا چاندنی آخر
غم دغا میں مسلسل جو چاند ڈھلتا رہا

یہ ان کا دعویٰ مسیحائی کا ہے مکر و فریب
لپٹ کے ان سے مسلسل کوئی مچلتا رہا

ہمیشہ اشکوں کی زد میں ہی رات ڈھلتی رہی
امید جاں میں مسلسل جگر پگھلتا رہا

یہ ہم سے پوچھو تو کیا ہے یہ شے بھی لطف شغفؔ
کہ درد اشک مسلسل قبا بدلتا رہا

پروین شغف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم