MOJ E SUKHAN

اب دل کی یہ شکل ہو گئی ہے

اب دل کی یہ شکل ہو گئی ہے
جیسے کوئی چیز کھو گئی ہے

پہلے بھی خراب تھی یہ دنیا
اب اور خراب ہو گئی ہے

اس بحر میں کتنی کشتیوں کو
ساحل کی ہوا ڈبو گئی ہے

گل جن کی ہنسی اڑا چکے تھے
شبنم بھی انہیں کو رو گئی ہے

کل سے وہ اداس اداس ہیں کچھ
شاید کوئی بات ہو گئی ہے

شاداب ہے جس سے کشت ہستی
وہ بیج بھی موت بو گئی ہے

رئیس امروہوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم