دنیا کی نفرتوں میں ابھی اتنا دم نہیں
تیرے خلاف چل پڑے ایسا قلم نہیں
اس زندگی کو دینا ہے جب زندگی کا نام
آگے بڑھا کے پیچھے ہٹاتے قدم نہیں
تن پر سجائے پھرتی ہوں ملبوس درد کا
کیسے کہوں کے دل میں کوئی میرے غم نہیں
کاٹے ہیں کس طرح سے ترے بن یہ روز و شب
یہ داستانِ غم بھی تو ہوتی رقم نہیں
اس سے کہو کے کھینچ لے جور و جفا کے ہاتھ
ظلم و ستم کو سہنے کا اب مجھ میں دم نہیں
چارہ گری سے تیری امڈ آئے ہیں یہ اشک
ورنہ یہ چشمِ بینا کبھی ہوتی نم نہیں
مدت کے بعد ہم کو یہ احساس ہو گیا
تیرا ستم بھی تیری عنایت سے کم نہیں
چاہت نے تیری حوصلہ ایسا دیا مجھے
خوابوں میں کوئی تیرے علاوہ صنم نہیں
آگاہ کرتا مجھ کو جو حالات سے ترے
اس بزم میں شمیم کوئی جامِ جم نہیں
شمیم چودھری