MOJ E SUKHAN

رات دن سانحوں کی زد میں تھا

رات دن سانحوں کی زد میں تھا
شہرسب حادثوں کی زد میں تھا

منزلوں کا سراغ کیا پاتے
کہ سفر راستوں کی زد میں تھا

تھیں سیاست کی بھی عجب چالیں
کھیل سب سازشوں کی زد میں تھا

روح کے زخم ہی نہ تھے ناسور
جسم بھی کرچیوں کی زد میں تھا

عکس در عکس بٹ گیا تھا وجود
اس قدر آئینوں کی زد میں تھا

کتنا مختار ہوکے بھی انساں
کتنی مجبوریوں کی زد میں تھا

یونہی پیہم ہے روزوشب کا نظام
وقت بھی گردشوں کی زد میں تھا

ایک انساں ہزار پیمانے
آدمی فلسفوں کی زد میں تھا

سرپہ اک سائباں تھا بوسیدہ
اور گھر بارشوں کی زد میں تھا

نزہت عباسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم