MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خواب جتنے تھے سبھی رات سے وابستہ تھے

خواب جتنے تھے سبھی رات سے وابستہ تھے
اور یہ درد مری ذات سے وابستہ تھے

میں رہا عشق میں ناکام مگر شعر یہ سب
اس کی خاطر سے مدارات سے وابستہ تھے

جن کو ہر روپ میں ڈھلنے کا ہنر آتا ہے
جانے کیا لوگ تھے کس دھات سے وابستہ تھے

رنج و غم درد کے انبار مرے سینے پر
اے سخن فہم تری گھات سے وابستہ تھے

گھومتے پھرتے سماعت سے سماعت سچ ہے
جتنے قصے تھے مری مات سے وابستہ تھے

ہم نے ہر روپ میں خوش رنگ جنہیں دیکھا ہے
گل کے قصے اسی برسات سے وابستہ تھے

ہم نے اقبال یہاں جتنے بھی سامان کیے
وہ سبھی مہر و عنایات سے وابستہ تھے

ڈاکٹر سید محمد اقبال شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم