MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دوستوں کو بہم نہیں ہوتا

دوستوں کو بہم نہیں ہوتا
آدمی محترم نہیں ہوتا

میرے پندار کا تقاضا ہے
سرِ تسلیمِ خم نہیں ہوتا

موت نے بارہا تسلی دی
خوف جینے کا کم نہیں ہوتا

سرحدیں ہیں زمین کی قسمت
آسماں منقسم نہیں ہوتا

آپ سے دوستی ہے ناممکن
تیل پانی میں ضم نہیں ہوتا

درد بے شکل سی وہ پرچھائیں
جس کا حلیہ رقم نہیں ہوتا

سب کو جینے کا غم تو ہوتا ہے
سب کو مرنے کا غم نہیں ہوتا

اس پہ آنکھیں نکالتے ہیں سبھی
جس کے بازو میں دم نہیں ہوتا

بے دھڑک آیئے گلے ملیے
سب کی جیکٹ میں بم نہیں ہوتا

آشنا دھوپ سے نہیں جو امـؔر
ایسی مٹی میں نم نہیں ہوتا

امر روحانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم