MOJ E SUKHAN

آپ کی جب عطا ہو گئی

آپ کی جب عطا ہو گئی
درد کی انتہا ہوگئی

گلشنِ عشق کی آج کل
زعفرانی فضا ہوگئی

پیڑ پودے جھلسنے لگے
دھوپ کی انتہاہوگئی

جتنے فرعون و نمرود تھے
سب کی ہستی فنا ہو گئی

حاکمِ وقت سمجھیں گے کب
ظلم کی انتہا ہوگئی

کون آیا سرِ انجمن خوشنما
کیوں معطر فضاہو گئی

اُن کی چشمِ کرم کے طُفیل
دردِ دل کی دوا ہو گئی

آج میری غزل اے قمر
کچھ سماعت رسا ہو گئی

ڈاکٹر قمر سرور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم