MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اب بھی دیئے میں جان بہت ہے

اب بھی دیئے میں جان بہت ہے
تیز ہوا حیران بہت ہے

چلنا بھی ہے تنہا مجھ کو
رستہ بھی سُنسان بہت ہے

لوگو اپنے خواب نہ بیچو
اس میں تو نقصان بہت ہے

ہونٹ اگرچہ سی رکھے ہیں
سینے میں طوفان بہت ہے

اُس کی یادیں ، اُس کی خوشبو
زیست کو یہ سامان بہت ہے

حقداروں کو حق مل جائے
پھر جینا آسان بہت ہے

بڑھ کر میں تلوار اُٹھا لوں
اس کا بھی امکان بہت ہے

شاہدہ عروج خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم