شعر کہتا ہوں اب سہولت سے
اور وہ بھی عجب سہولت سے
لوگ جس پر نہیں ہوئے حیراں
کر لیا بے سبب سہولت سے
کبھی مشکل سے کہہ نہ پاتےتھے
اب جو کہتے ہیں سب سہولت سے
کیا وظیفہ ہے یہ محبت کا
پڑھ لیا زیرِ لب سہولت سے
ایک نعمت سے کم نہیں یہ بھی
رزق دیتا ہے رب سہولت سے
آ ، رہِ دل میں مرنا چاہتا ہے
اک ترا جاں بہ لب سہولت سے
تنگ دستوں میں جب شمار نہ ہو
کام ہوتے ہیں تب سہولت سے
خود پہ سو جبر سہنا پڑتے ہیں
نہیں آتا ادب سہولت سے
عادل آیا نہ جلد بازوں کو
بات کہنے کا ڈھب سہولت سے
عادل یزدانی چنیوٹ