محبتوں سے حرارت فضائیں لیتی ہیں
سخی حسینؑ سے خوشبو ہوائیں لیتی ہیں
ہوا ہے جب سے تیری اوٹ سے طلوع اسلام
ادب سے نام تیرا کر بلائیں لیتی ہیں
میرے حسینؑ تیرے ساتھ جو بھی ہو گذرا
زمینیں شرم سے منہ پر ردائیں لیتی ہیں
حسینؑ پھرتے ہیں اصغرؑ شہید کو لے کر
مقامِ صبر، تجھے انتہائیں لیتی ہیں
غمِ حسینؑ ترے عشق کی ہے یہ معراج
حمیتیں ترے دکھ میں سزائیں لیتی ہیں
جوان بیٹوں کو دے دے کر درسِ شبیری
شہادتوں کے پھر اعزاز مائیں لیتی ہیں
ہیں بے شمار، کہ آزادیاں دلانے والے
ہر اک شہید کی بہنیں دعائیں لیتی ہیں
میں دیکھتا ہوں کہ گستاخؔ، رحمتیں اس کی
بہت دنوں سے خبر دائیں بائیں لیتی ہیں