MOJ E SUKHAN

کام کرنے کا کچھ عوام کریں

کام کرنے کا کچھ عوام کریں
ذہن سازی پہ تھوڑا کام کریں

یہ محبت ازل سےپھیلی ہے
صرف نفرت کی روک تھام کریں

تلخیاں ضد میں جتنی اڑیل ہوں
شہد لہجے اُنھیں غلام کریں

شہرِ پُر درد تیرے سناٹے
سسکیاں توڑ کر کلام کریں

ہےمرے ملک کی فضا بوجھل
ان ہواوں کو کیسے رام کریں؟

راحتیں منتظر ہیں پہلو میں
ان کو لپٹا کےاپنے نام کریں

آمدو رفت سانس کی باندی
زندگی آ تجھے سلام کریں

نازیہ نزی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم