MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دشمن کی رزم گاہ کہ یاروں کی انجمن

دشمن کی رزم گاہ کہ یاروں کی انجمن
ہرجاہوں اپنی ذات پہ خودہی میں خندہ زن

کس نے کہا گلوں سے ہے خالی یہ گلستاں
کِھلنے لگے ہیں پھر سے گلاب اور نسترن

تیشہ کہاں جو دودھ کی نہریں بہا سکے
شیریں ہے اب یہاں نہ رہا کوئ کو ہکن

سچ بھی ملا دیا تھا فسانے میں جو ذرا
گذری وہی گراں انہیں بے باکئِ سخن

کب کی اتار پھینکی خلعت شاہِ وقت کی
اب جذبِ شوق کا ہے کوئ اور پیر ہن

ظلم و ستم نے عشق کی بیعت قبول کی
دیکھا جو اس نے دار پہ عاشق کا بانکپن

شاید اسی طفیل خدا بخش دے اسے
راشد ہے خاکِ پائے غلامانِ پنجتن

راشد حسین راشد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم