دشمن کی رزم گاہ کہ یاروں کی انجمن
ہرجاہوں اپنی ذات پہ خودہی میں خندہ زن
کس نے کہا گلوں سے ہے خالی یہ گلستاں
کِھلنے لگے ہیں پھر سے گلاب اور نسترن
تیشہ کہاں جو دودھ کی نہریں بہا سکے
شیریں ہے اب یہاں نہ رہا کوئ کو ہکن
سچ بھی ملا دیا تھا فسانے میں جو ذرا
گذری وہی گراں انہیں بے باکئِ سخن
کب کی اتار پھینکی خلعت شاہِ وقت کی
اب جذبِ شوق کا ہے کوئ اور پیر ہن
ظلم و ستم نے عشق کی بیعت قبول کی
دیکھا جو اس نے دار پہ عاشق کا بانکپن
شاید اسی طفیل خدا بخش دے اسے
راشد ہے خاکِ پائے غلامانِ پنجتن
راشد حسین راشد