MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل پریشاں شدید ہے اپنا

غزل

دل پریشاں شدید ہے اپنا
مسئلہ وہ ہی دید ہے اپنا

اک تعلق ہے اور بھی تجھ سے
تیرا مرشد مرید ہے اپنا

کیا نچائے گا انگلیوں پر دل
یہ بھی جب زر خرید ہے اپنا

قدغنیں توڑ دیں گی دم کیونکہ
فلسفہ ہی جدید ہے اپنا

موت آئے گی منہ کی کھائے گی
اب تخلص شہید ہے اپنا

بھول کر کب بھلا سکے گی ہمیں
نقش دل پر رسید ہے اپنا

شاخ امید سبز ہے یعنی
وقت دو دن مزید ہے اپنا

شبِ منگل ہوئی تھی پیدا وہ
بدھ کا دن روزِ عید ہے اپنا

غم کی شدت میں عشق کے مارو
شعر ہر اک مفید ہے اپنا

ایسا لگتا ہے اب تو موجِ نسیم
دل مثالِ کلید ہے اپنا

نسیم شیخ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم