MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نئے موسم کی خوشبو آزمانا چاہتی ہیں

نئے موسم کی خوشبو آزمانا چاہتی ہیں
کھلی باہیں سمٹنےکا بہانا چاہتی ہیں

فصیلِ جسم ہر طور ڈھانا چاہتی ہیں
نمو کی خواہشیں اظہار پانا چاہتی ہیں

نئے آہو، نئے صحرا، نئے خوابوں کے امکاں
نئی آنکھیں، نئے فتنے جگانا چاہتی ہیں

نگارِ شام بے منزل! بھٹکتی آرزوئیں
بسیرے کے لیے کوئی ٹھکانا چاہتی ہیں

بدن کے سرپھرے باغوں کی شوریدہ ہوائیں
نشاطِ گمرہی کے گیت گانا چاہتی ہیں

بدن کی آگ میں جلنے لگے ہیں پھول سے جسم
ہوائیں مشعلوں کی لَو بڑھانا چاہتی ہیں

شاعر: افتخار عارف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم