MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جس میں اک حسن توازن ہو وہ ندرت دی جائے

جس میں اک حسن توازن ہو وہ ندرت دی جائے
کیا قباحت ہے اگر فکر کو وسعت دی جائے

مشورے قابل تسلیم ترے ہیں کہ نہیں
غور کرنے کے لئے کچھ مجھے مہلت دی جائے

مصلحت جھوٹ پہ انسان کو مائل کر دے
اس قدر سخت نہ تعزیر صداقت دی جائے

اس عمل سے دل فنکار پہ کیا گزرے گی
لے کے مہتاب اگر شمع کی قیمت دی جائے

سخت مشکل ہے غلط بات پہ قائل کرنا
ایک دو ہوں تو انہیں فہم و بصیرت دی جائے

بات تو جب ہے کہ ممنون بہاراں ہوں سبھی
پھول تو پھول ہیں کانٹوں کو بھی نزہت دی جائے

چارۂ غم کے لئے شرط ہے اخلاص نصیرؔ
کون ہے شہر میں ایسا جسے زحمت دی جائے

نصیر کوٹی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم