MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

عجب سکوت سا ہے وقت بھی رکا ہوا ہے

عجب سکوت سا ہے وقت بھی رکا ہوا ہے
مری زمیں تری گردش کو آج کیا ہوا ہے

ذرا سا مرتبہ جس جس کو بھی ملا ہوا ہے
وہ شخص شہر میں جیسے خدا بنا ہوا ہے

میں داستان سرائے میں آتا رہتا ہوں
کہیں کہیں سے یہ قصہ مرا سنا ہوا ہے

یہاں سے کس کی سواری گزرنے والی ہے
ہر ایک شخص نے ہاتھوں پہ سر رکھا ہوا ہے

جو زشت رو ہو اسے زشت رو دکھاتا ہے
کہاں کا دیکھیے یہ آینہ بنا ہوا ہے

ستارو آو ذرا دیر مل کے بیٹھتے ہیں
ستارہ ساز کہیں کام سے گیا ہوا ہے

ذرا ذرا سے سرکنے لگے ہیں سیارے
یہ آسمان بھی محور سے کچھ ہٹا ہوا ہے

سفر میں کوئی بھی ایسے جدا نہیں ہوتا
تو جس طرح سے مرے ہم سفر!جدا ہوا ہے

طارق نعیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم