MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تم کوئی اس سے توقع نہ لگانا مرے دوست

تم کوئی اس سے توقع نہ لگانا مرے دوست
یہ زمانہ ہے زمانہ ہے زمانہ مرے دوست

سامنے تو ہو تصور میں کہانی کوئی
اک حقیقت سے بڑا ایک فسانہ مرے دوست

میرے بیٹے میں تمہیں دوست سمجھنے لگا ہوں
تم بڑے ہو کے مجھے دنیا دکھانا مرے دوست

دیکھ سکتا بھی نہیں مجھ کو ضرورت بھی نہیں
میری تصویر مگر اس کو دکھانا مرے دوست

کہنے والے نے کہا دیکھ کے چہرہ میرا
غم خزانہ ہے اسے سب سے چھپانا مرے دوست

تیری محفل کے لیے باعث برکت ہوگا
نا مرادان محبت کو بلانا مرے دوست

تم کو معلوم تو ہے مجھ پہ جو گزری تیمورؔ
پوچھ کر مجھ سے ضروری ہے رلانا مرے دوست

تیمور حسن تیمور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم