MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خنجر ہے کوئی اور نہ تلوار پھرے ہے

خنجر ہے کوئی اور نہ تلوار پھرے ہے
نظروں میں وہی ابروئے خمدار پھرے ہے

اک شخص بظاہر یہاں بے بیکار پھرے ہے
آئینہ لیے کوچہء دلدار پھرے ہے

دیتے ہیں سنائی ہمیں بجتے ہوئے گھنگرو
کیا لے کے ہوا اب تری گفتار پھرے ہے

ہے کوئی پری رُو جو سرِ دشتِ غزالاں
پہنے تری پازیب کی جھنکار پھرے ہے

اک پل میں اِدھر ہے کوئی دم بھر میں اُدھر ہے
سایہ ہے، چھلاوہ ہے کہ دیوار پھرے ہے۔

آتا ہے تبھی وجد میں طاؤسِ چمن بھی
ہم رقص اگرصورتِ پرکار پھرے ہے

اک طائرِ جاں جسم کے پنجرے میں مقید
پابندِ وفا ہے جو گرفتار پھرے ہے

کل تک تھی اُسے بھی طلبِ آہوئے صحرا
اب خاک اڑاتا ہوا بے کار پھرے ہے

زخموں کی نئی فصل رگِ جاں پہ اگائیں
پھر دیکھیں بھلا کیسے خریدار پھرے ہے

میں قتل گہہِ زیست میں تنہا ہوں تو مجھ پر
خنجر کبھی نیزہ کبھی تلوار پھرے ہے

رکھا نہ کسی کام کا اس عشق نے خسروؔ
لگتا ہے رگوں میں کوئی آزار پھرے ہے

(فیروز ناطق خسروؔ)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم