MOJ E SUKHAN

یہ آساں ہے ، کوئی مشکل نہیں ہے

یہ آساں ہے ، کوئی مشکل نہیں ہے
کہ جھٹلانے سے کچھ حاصل نہیں ہے

حقیقت ہے نئی وہ کہکشاں بھی
فقط اک رات کی جھل مل نہیں ہے

ہر اک دھڑکن ہے وابستہ تمہی سے
مرے قابو میں اب یہ دل نہیں ہے

سفر میں ساتھ رہنے سے یہ جانا
وہ میری راہ میں حائل نہیں ہے

امنگیں اور امّیدیں ہیں روشن
یہاں ویرانی ءِ محفل نہیں ہے

تمہارے لفظ ہر سو رقص میں ہیں
یہ خوش فہمی بھی کم قاتل نہیں ہے

ڈاکٹرحنا امبرین طارق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم