MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جو صورت گیرحسن وعشق کی دنیا کہیں ہوتی

جو صورت گیرحسن وعشق کی دنیا کہیں ہوتی
ترے ضو کا فلک بنتا مرے ظل کی زمیں ہوتی

تمنا ہے کہ اب ایسی جگہ کوئی کہیں ہوتی
اکیلے بیٹھے رہتے یاد ان کی دل نشیں ہوتی

وہاں رہتے جہاں دودو فغاں کا آسماں ہوتا
وہاں بستے جہاں خاکسترِ دل کی زمیں ہوتی

پتہ چلتا کہ غم میں زندگی کیونکر گذرتی ہے
ترے قالب میں کچھ دن کو مری جانِ حزیں ہوتی

ستاروں کو یہ حسرت ہے کہ ہوتے وہ مرے آنسو
تمنا کہکشاں کو ہے وہ میری آستیں ہوتی

دِکھادیتےمزہ پھر تم کو ہم اپنے تڑپنے کا
جو عالم بے فلک ہوتا جو دنیا بے زمیں ہوتی

نہیں کرتے ہیں وعدہ دید کا وہ حشر سے پہلے
دلِ بے تاب کی ضد ہے ابھی ہوتی یہیں ہوتی

جو میخانہ میں ہے ام الخبائث حضرتِ واعظ
پہنچ جاتی جو حجرہ میں شراب الصالحیں ہوتی

ذرا دیکھو تو تم انصاف سے مجذوب کی ہیئت
محبت کے ریاکاروں کی یہ صورت نہیں ہوتی

خواجہ عزیز الحسن مجذوب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم